Allaah SWT ka nabi per darood bhejne ka matlab
صلوٰۃ کا لفظ جو آیت شریفہ میں واردہوا ہے اور اس کی نسبت اللہ جل شانہ کی طرف اور اسکے فرشتوں کی طرف اور مؤمنین کی طرف کی گئی ہے۔ وہ ایک مشترک لفظ ہے جو کئی معنی میں مستعمل ہوتا ہے ۔ *تکریم وتشریف ، مدح وثنا، برکت ورحمت ، رفعِ مراتب ، محبت و عطوفت ، پیار ودلار ، ارداہ خیر ودعا* ان سب کو صلوٰۃ کا مفہوم حاوی ہے اور اسی رحمت خاصّہ کو ہمارے محاورہ میں درود کہتے ہیں ۔ تفصیلی مطالع کے لیے لنک پر کلِک کریں. 🔻 https://www.urdunews.com/node/384486/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C/%D9%86%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%85--%D9%BE%D8%B1-%D8%B5%D9%84%D9%B0%D9%88%DB%83-%D9%88-%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D8%B6%DB%8C%D9%84%D8%AA امام بخاری رحمہ اللہ ؒ نے ابو العالیہ سے نقل کیا کہ اللہ کے درود کا مطلب آپ کی تعریف کرنا ہے فرشتوں کے سامنے اور فرشتوں کا درود ان کا دعا کرنا ہے ۔ صاحب روح البیان لکھتے ہیں : "بعض علماء نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا درود بھیجنے کا مطلب حضور اقدس کو مقام محمود تک پہنچانا ہے اور وہ مقام شفاعت ہے ...