اللہ ﷻ اور فرشتوں کا نبی ﷺ پر درود بہیجنے کا مطلب
اللہ اوراس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں،مومنو! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو۔‘‘ آیت شریفہ میں جو’’صلوٰۃ‘‘ کا لفظ واردہو اہے، اس کی نسبت اللہ جل شانہٗ کی طرف اور اس کے فرشتوں کی طرف اور مومنین کی طرف کی گئی ہے، وہ ایک ایسامشترک لفظ ہے جو صلہ کی تبدیلی کے ساتھ کئی معنوں میں استعمال ہوتاہے ۔ ’’صلوٰۃ‘‘ کے ایک معنی دعاء کے ہیں، جیسے :قرآن کی اس آیت میں ’’وَصَلِّ عَلَیْہِمْ إِنَّ صَلَاتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ۔‘‘ (التوبہ: ۱۰۳) اسی طرح کہاجاتا ہے: ’’الصلاۃ علی الجنازۃ‘‘ یعنی میت کے لیے دعا کرنا ۔ دوسرا معنی استغفار کے ہیںجیسے: آپ کے اس فرمان میں ’’إنی بعثت إِلٰی أھل البقیع لأصلی علیہم۔‘‘ تیسرا معنی برکت کے ہیں، جیسے:آپ کے اس فرمان میں ’’أللّٰھم صل علٰی آل أبی أوفی۔‘‘ چوتھا معنی قراء ت کے ہیں، جیسے :باری تعالیٰ کے ارشاد: ’’وَلَاتَجْھَرْبِصَلَاتِکَ وَلَاتُخَافِتْ بِھَا۔‘‘ پانچواںمعنی رحمت اورمغفرت کے ہیں، جیسے: شاعر کے اس شعر میں ’’یراوح من صلوٰت ملیک طوراً سجوداً وطوراً جوارا۔‘‘ چنانچہ اس جگہ ’’صلوۃ‘‘کے جو معنی اللہ ،فرشتے اورمومنین کے حال کے مناسب ہوںگے وہ مرادہ...