farishtei darood bhejnei walei per darood bhejtei hein
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے خدوخال خوشی سے چمک رہے تھے میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آج کے دن سے بڑھ کر کبھی اتنا زیادہ خوش نہیں پایا (اس کی کیا وجہ ہے؟) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جبرئیل ابھی میرے پاس سے روانہ ہوا ہے اور مجھے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور دس گناہ معاف کر دیتا ہے اور دس درجات بلند کردیتا ہے اور فرشتے اس کے لئے ایسا ہی کہتے ہیں جیسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کہتا ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے کہا اے جبرئیل اس فرشتے کا کیا معاملہ ہے؟ تو اس نے کہا بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت تک ایک فرشتہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مقرر کیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے تو وہ کہتا ہے (اے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والے) اللہ تجھ پر بھی درود (بصورت رحمت) بھیجے۔‘‘
. طبراني، المعجم الکبير، 5 : 100، رقم : 4720
2. هيثمي، مجمع الزوائد، 10 : 161
3. منذري، الترغيب والترهيب، 2 : 325، رقم : 2567
’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جوشخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس کے بدلہ میں اس پر ستر مرتبہ درود (بصورت دعا) اور سلامتی بھیجتے ہیں۔ اب بندہ کو اختیار ہے چاہے تو وہ اس سے کم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے یا اس سے زیادہ
. احمد بن حنبل،
المسند، 2 : 172، رقم : 6605
2. منذري، الترغيب والترهيب، 2 : 325،
رقم : 2566
3. مناوي، فيض القدير، 6 : 169
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو ابھی میرے پاس جبرئیل علیہ السلام اپنے رب کی طرف سے حاضرہوئے اور کہا کہ اس زمین پر جو مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اور میرے فرشتے اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت و دعا) بھجتے ہیں۔‘‘
منذري، الترغيب والترهيب، 2 : 326، رقم : 2568
2. عجلوني، کشف الخفاء، 1 : 190، رقم : 501
:
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص ’’اللہم صل علی محمد‘‘ (اے اللہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج) کہتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کلمات سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جس کے دو پر ہیں ایک پر مشرق میں اور دوسرا مغرب میں اور اس کی دونوں ٹانگیں (ساتوں) زمینوں کی آخری حدود تک ہیں اور اس کا سر اللہ عزوجل کے عرش کے نیچے ہے پس اللہ تعالیٰ اس فرشتے کو فرماتا ہے کہ قیامت تک اس شخص پر اسی طرح درود بھیج جس طرح اس نے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا پس وہ فرشتہ اس بندے پر قیامت کے روز تک درود (بصورتِ دعا) بھیجتا رہے گا۔‘‘
ديلمي، مسند الفردوس، 1 : 286، 287، رق
ق
235’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دعاء آسمان کے نیچے حجاب میں رہتی ہے جب تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجاجائے پس جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے تو دعا (آسمان کی طرف) بلند ہو جاتی ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کتاب میں مجھ پر درود لکھتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک درود (بصورت دعا) بھیجتے رہتے ہیں جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہتا ہے۔‘‘
رطبي، الجامع لأحکام القرآن، 14
Comments
Post a Comment