حضرت سفیان ثوری ؒ کو طواف کرتے ہوے لڑکے نے عجیب واقعہ بتایا
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأَمِيِّ وَ عَلٰى أٰلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا ‘
ایک حکایت: جس سے درودشریف کی فضیلت کا ہمیں اندازہ ہوسکتا ہے
حضرت سفیان ثوری ؒ طواف کررہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کودیکھا جو ہر قدم پر درود شریف پڑھتا تھاسفیان ثوریؒ نے پوچھا: اے شخص! کیا بات ہے کہ طواف کے درمیان تسبیح وتہلیل کے بجائے توہر قدم پر درود شریف پڑھتاہے، اس سلسلہ میں کوئی علمی بات ہو تو بتائو،
وہ کہنے لگا: تو کون ہے ؟ اللہ تجھے معاف فرمائے، انہوں نے کہا: میرا نام سفیان ثوری ہے
،وہ شخص کہنے لگا کہ اگرتو اپنے وقت کا نادرشخص نہ ہوتا تو میں یہ راز تجھے نہ بتاتا اور نہ ہی اپنے حال سے مطلع کرتا۔
واقعہ یہ ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حج بیت اللہ کے سفر پر نکلا، اثنائے سفر میرے والد بیمارہوگئے، میں ان کاعلاج کرتا رہا،
ایک رات میں والد کے سرہانے بیٹھا تھا وہ فوت ہوگئے اورچہرہ سیاہ ہوگیا،
میں نے ’’إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون‘‘پڑھی اور چادر سے اپنے والد کا منہ ڈھانپ دیا ،مجھے نیند کا غلبہ ہوا اور میں سوگیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک انتہائی حسین وجمیل شخص ہے کہ اس جیسا خوبصورت کبھی دیکھنے میں نہ آیا تھا، نہ اس سے بڑھ کر پاکیزہ اور اُجلا لباس کبھی دیکھا اور نہ اس سے بہتر کوئی خوشبودار مہک نصیب ہوئی تھی
وہ قدم قدم چلا آرہا تھا، حتیٰ کہ میرے والد کے قریب پہنچ گیا، اس کے چہرہ سے کپڑا ہٹاکر ہاتھ پھیرا جس سے وہ سفید اور منور ہوگیا، یہ شخص واپس ہونے لگا تو میں دامن سے لپٹ گیا اور پوچھا: اے اللہ کے بندے! تو کون ہے جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے میرے والد پر اس سفر کی حالت پر احسان فرمایا؟
ارشاد ہوا: کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ تیرا باپ گو ذاتی طور پر کوتاہیاں کرتا رہتا تھا، لیکن مجھ پر درود بکثرت پڑھتا تھا، اب مصیبت میں مبتلا ہوکر اس نے فریاد کی اور میں ہر شخص کی مدد کے لیے ہوں جو مجھ پر درود بکثرت پڑھتا ہے، میں خواب سے بیدار ہوا تو دیکھا میرے والد کا چہرہ سفید اور روشن تھا۔ (تنبیہ الغافلین)
نوٹ:
سفیان ثوریؒ کون تہے؟
```ابو عبد اللہ امام سفیان ثوریؒ تبع تابعین, فقیہ و محدث تہے جنھوں نے ضبط و روایت میں اس قدر شہرت پائی کہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن عیینہ اور یحیی بن معین جیسے محدثین نے آپ کو امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے سرفراز کیا۔```
امام سفیان ثوریؒ کے زہد و ورع اور ثقاہت پر سب کا اتفاق ہے. ترمزی شریف کے تقریبن ہر باب میں حضرت سفیان الثوریؒ کا ذکر آپ کو ملے گا
✿.。.:* ☆:**:.:**:.☆*.:。.✿
Comments
Post a Comment