درود کے گشت کرنے والے فرشتے
هيثمي، مجمع الزوائد، 10 : 77
2. منذري، الترغيب والترهيب، 2 : 260، رقم : 2322
✿.。.:* ☆:**:. .:**:.☆*.:。.✿
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے بعض گشت کرنے والے فرشتے ہیں جو
مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔‘‘
’’حضرت یزید الرقاشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک فرشتہ کو ہر اس بندے کا وکیل بنایا جاتا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے کہ وہ اس بندے کی طرف سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ درود پہنچائے (اور کہتا ہے کہ) یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے فلاں بندہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا ہے۔‘‘
ابن ابي شيبه، المصنف، 2 : 253، رقم : 8699
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 326، رقم : 31792
✿.。.:* ☆:**:. .:**:.☆*.:。.✿
’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جوشخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس کے بدلہ میں اس پر ستر مرتبہ درود (بصورت دعا) اور سلامتی بھیجتے ہیں۔ اب بندہ کو اختیار ہے چاہے تو وہ اس سے کم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے یا اس سے زیادہ۔‘‘
احمد بن حنبل، المسند، 2 : 172، رقم : 6605
2. منذري، الترغيب والترهيب، 2 : 325، رقم : 2566
3. مناوي، فيض القدير، 6 : 169
✿.。.:* ☆:**:. .:**:.☆*.:。.✿
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص ’’اللہم صل علی محمد‘‘ (اے اللہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج) کہتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کلمات سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جس کے دو پر ہیں ایک پر مشرق میں اور دوسرا مغرب میں اور اس کی دونوں ٹانگیں (ساتوں) زمینوں کی آخری حدود تک ہیں اور اس کا سر اللہ عزوجل کے عرش کے نیچے ہے پس اللہ تعالیٰ اس فرشتے کو فرماتا ہے کہ قیامت تک اس شخص پر اسی طرح درود بھیج جس طرح اس نے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا پس وہ فرشتہ اس بندے پر قیامت کے روز تک درود (بصورتِ دعا) بھیجتا رہے گا۔‘‘
ديلمي، مسند الفردوس، 1 : 286، 287، رقم :
✿.。.:* ☆:**:. .:**:.☆*.:。.✿
آپﷺ نے فرمایا :میرے دنیا سے جانے کے بعد جب بھی کوئی شخص مجھ پر سلامتی بھیجے گا توحضرت جبرائیل اس کے سلام کے ساتھ تشریف لائیںگے اور کہیں گے :اے محمد ﷺ !فلاں کے بیٹے فلاں نے آپ کو سلام کہا، تومیں کہوں گا:’’وعلیہ السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ۔‘‘ (تفسیرقرطبی،ج:۱۴،ص:۲۳۷)
Comments
Post a Comment