درود و سلام میں أل محمدﷺ سے مراد صرف اہل بعیت نہی ہیں.*
اہل بعیت و آل محمدﷺ: ایک تحقیقی مطالعہ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأَمِيِّ وَ عَلٰى أٰلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا ‘
*درود و سلام میں أل محمد سے مراد صرف اہل بعیت نہی ہیں.*
پروفیسر محمد سلیم قاسمی
ڈین دینیات فیکلٹی وصدر شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے بارے میں حالات کےمناسبت سے مختلف اقوال ہیں۔
(1) آل محمد سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔
(2) دوسرا قول یہ ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد آپ کی اولاد اور بیویاں ہیں۔
(3) تیسرا قول یہ ہے کہ محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد قیامت تک آنے والے آپ کے پیروکار ہیں۔
(4) چوتھا قول یہ ہے کہ آل سے مراد آپ کے امت کے متقی و پرہیزگار لوگ ہیں۔
_واضح رہے کہ *درود شریف* میں لفظ آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اولاد ، اہلِ خانہ (ازواجِ مطہرات ) بھی شامل ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام امت اجابت یعنی تمام متقین و متبعین بھی شامل ہیں۔
https://darululoom-deoband.com/urduarticles/archives/3477
حضرت انس رضی اللہ تعلی عنہٰ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ سے سوال کیا گیا کہ أل محمد ﷺ کون ہیں تو أپ ﷺ نے فرمایا کہ (میری اُمت کا) پرہیزگار میری أل ہے. ((أل عمتہ))
_السنن الکبریٰ للبیہقی چلد 2 صفہ 152_
آل محمد ﷺ : عربوں میں کسی شخص کے آل سے مراد وہ سب لوگ سمجھے جاتے ہیں جو اس کے ساتھی، مددگار اور متبع ہوں خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ۔ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ انھیں سب معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے:
اہل اور آل میں فرق: کسی شخص کے اہل بیت وہ ہوتے ہیں جو اس کے قریبی اور رشتہ دار ہوں ، خواہ وہ اس کے متبع ہوں یا نہ ہوں.
اور آل وہ کہلاتے ہیں جو کسی کے متبع ہوں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ۔
دوسری بات یہ کہ آل عام لوگوں کی اولاد کے لیے استعمال نہیں ہوتا ہے.
*أل صرف شاہان مملکت اور عظیم شخصیات کی اولاد اور ان کی نسل یا ان کے اصحاب ومتبعین کے لیے استعمال ہوتا ہے*
ارشاد باری تعالیٰ ہے: إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَّجَّیْنَاہُم بِسَحَر (القمر:۳۴) (ہم نے قوم لوط پر عذاب بھیجا سوائے آل لوط کے ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا)
(یوسف:۶) (اور اس طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ کرے گا اور تم کو معافلہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) سکھائے گا اور اپنی نعمت تم پر پوری کرے گا اور یعقوب کے گھرانے پر بھی جیساکہ اس نے اس سے پہلے تمہارے دادا اور پردادا، اسحاق وابراہیم، کو بھی نعمتوں سے نوازا)۔
صحیح بحاری، کتاب البیوع، باب شراء النبی ﷺ بالنسیئۃ) (کوئی شام آل محمد ﷺ پر ایسی نہیں گذرتی تھی جب ان کے پاس ایک صاع گیہوں یاکوئی دوسرا اناج ہو؛ جبکہ آپ کی نوبیویاں تھیں )۔
صحیح مسلم میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں : انا کنا آل محمد لنمکث شہرا ما نستوقد بنار ان ہو الا التمر والماء (صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقاق، باب ما بین النفختین)
(ہم آل محمد کے گھروں میں ایک ایک مہینہ گذرجاتا تھا چولھا نہیں جلتا تھا، صرف کھجور اور پانی پر گذارا کرتے تھے)۔
.........معلوم ہوا کہ لفظ ’’آل‘‘ اقرباء وازواج رسول ﷺ اور اصحاب ومتبعین سب کے لیے استعمال ہوتا ہے، صرف رشتہ داروں کے لیے نہیں ۔
آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے اگر کوئی شخص سواد اعظم یا عقیدہ صحیحہ سے باہر ہو جائے یا کسی بھی باطل عقائد رکھنے والی جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس صورت میں وہ آل رسول نہیں کہلائے گا۔
آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد جس کا عقیدہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ماتحت ہو، جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے والا ہو۔ لہذا جس کا عقیدہ خراب ہو وہ آل رسول نہیں ہو سکتا۔
آل سے مراد اولاد نہیں ہے بلکہ پیروی کرنے والا ہے۔
لہذا ہر وہ مسلمان جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی پیروی کرتا ہے، اطاعت کرتا ہے۔ اس کا عقیدہ درست ہے وہ آل رسول ہے۔
آل سے مراد پیروی واتباع کرنے والا ہونا قرآن مجید سے ثابت ہے۔
اللہ تعالی نے بے شمار مقامات پر فرمایا : (آل فرعون) لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو فرعون کی کوئی اولاد ہی نہ تھی اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو فرعون کی پیروی کرتے ہیں۔
آل سے مراد فرعون کی پولیس اور حفاظتی دستے ہیں ، جو اسرائیلیوں کو پکڑ پکڑ کر سزا دیتے تھے، جنھیں اللہ نے ہلاک کردیا،ارشاد فرمایا: وَإِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَیْنَاکُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ (البقرہ:۵۰)
(اور یاد کرو جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو (راستہ دینے کے واسطے) بیچ سے پھاڑ دیا، پس تم کو ہم نے نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا)۔
اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی مثال دی کہ وہ آپ کی آل میں سے نہیں ہے وہ ابن رسول تو تھا لیکن آل رسول نہ تھا کیونکہ اس نے حضرت نوح علیہ السلام کی پیروی نہ کی۔ ان کے عقیدہ کو چھوڑ دیا۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ
(هُوْد ، 11 : 46)
ارشاد ہوا اے نوح علیہ السلام بے شک تیرا گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے۔
لہذا آل رسول وہی ہو گا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا۔ جس کا عقیدہ درست ہو گا۔ جس نے عقیدہ صحیحہ چھوڑ دیا اتباع رسول چھوڑ دی وہ آل رسول میں سے نہیں ہو گا
قول وہ ہے جسے ازہری اور دوسرے محققین نے اختیار کیا ہے کہ آل سے مراد تمام امت ہے)۔
اسی قول (راجح) کو امام مالک، حافظ ابن عبدالبر، احناف اور امام ابن تیمیہ وغیرہ نے بھی اختیار کیا ہے۔ صحابی رسول حضرت جابرعبداللہ ان اولین لوگوں میں سے ہیں جن سے یہ قول منقول ہے۔ چنانچہ امام بیہقی اور سفیان ثوری نے حضرت جابرؓ سے یہی قول نقل کیا ہے۔ امام شافعی کے بعض اصحاب نے بھی اسی قول کو اختیارکیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے جلاء الافہام لابن قیم، باب السادس، فصل: وہل یصلی علی آلہ منفردین)۔
اسی طرح عرب اسکالر شیخ ابن عثیمینؒ نے فرمایا: اذا ذکر الآل وحدہ فالمراد جمیع اتباعہ علی دینہ (مجموع فتاویٰ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین، باب صلاۃ التطوع،۱۵۶، سعودی عرب، ۱۹۹۹) (جب لفظ آل تنہا مذکور ہو تو اس سے مراد جملہ متبعین دین ہیں )۔
درود ابراہیمی میں آل محمد سے اگر صرف بنوہاشم و بنومطلب مراد لیے جائیں ، جو نسبا آل محمد ہیں ، تو اس میں نیک وبد اورمومن وکافر سب شامل ہوجائیں گے۔ دوسری طرف آل ابراہیم میں مغضوب وضالین بھی شریک ہوجائیں گے جو نسبا آل ابراہیم ہیں ؛
حالاں کہ قرآن میں فرمایا گیا: إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاہِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوہُ وَہَـذَا النَّبِیُّ وَالَّذِینَ آمَنُواْ وَاللّہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِینَ (آل عمران:۶۸)
(ابراہیم سے قرب رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر آخرالزماں اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے)۔
لہٰذا آل ابراہیم و آل محمد میں صرف وہ لوگ شامل ہیں جومتبع شریعت ہیں ، نہ کہ وہ جو دین میں غلو کرتے ہیں اورآیات الٰہیہ میںتحریف؛ بلکہ وہ متبع رسول ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس پرجسے اللہ نے ا
آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے اگر کوئی شخص سواد اعظم یا عقیدہ صحیحہ سے باہر ہو جائے یا کسی بھی باطل عقائد رکھنے والی جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس صورت میں وہ آل رسول نہیں کہلائے گا۔
آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد جس کا عقیدہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ماتحت ہو، جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے والا ہو۔
*لہذا جس کا عقیدہ خراب ہو وہ آل رسول نہیں ہو سکتا۔ آل سے مراد اولاد نہیں ہے بلکہ پیروی کرنے والا ہے* ۔
لہذا ہر وہ مسلمان جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی پیروی کرتا ہے، اطاعت کرتا ہے۔ اس کا عقیدہ درست ہے وہ آل رسول ہے۔ آل سے مراد پیروی کرنے واتباع کرنے والا ہونا قرآن مجید سے ثابت ہے۔
*اللہ تعالی نے بے شمار مقامات پر فرمایا : (آل فرعون)* لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو فرعون کی کوئی اولاد ہی نہ تھی اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو فرعون کی پیروی کرتے تہے۔
سمندر میں جو لوگ غرق ہوئے تھے، وہ فرعون کا لشکر تھا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: فَأَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِہِ فَغَشِیَہُم مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَہُمْ (طہٰ:۷۸)
(فرعون نے اسرائیلیوں کا پیچھا کیا اپنے تمام لائولشکر کے ساتھ پس وہ سمندر کی لہروں میں غرق ہوگیا)۔
اسی طرح جب ملک فرعون میں عذاب آیا تو وہ بھی تمام قوم پر آیا جو فرعون کی پرستش کرتے تھے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ولقد اخذنا آل فرعون بالسنین (اعراف:۱۳۰)
(ہم نے نافرمانیوں کے سبب فرعون کی قوم کو قحط سالی میں پکڑا)۔ اس جگہ بھی آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے جو اللہ کی طرف سے عذاب کا شکار ہوئی۔
اسی طرح ایک آیت میں فرعونیوں کے لیے سخت عذاب کی پیشین گوئی کی گئی، ارشاد ہوا: النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَۃُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ (الغافر:۴۶)
(فرعونیوں پر ان کے بعد مرنے کے پیش کی جاتی ہے آگ ہر صبح وشام اور جب قیامت ہوگی تو کہا جائے گا کہ سخت عذاب (نارجہنم) میں داخل ہوجائو)۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سے مراد خاندان ہی نہیں ؛ بلکہ متبعین بھی ہیں ۔
قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر آل فرعون کا لفظ آیا ہے، *ان میں کسی جگہ بھی آل سے مراد محض فرعون کے خاندان والے نہیں ہیں* ؛ بلکہ وہ سب مراد ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں فرعون کے طرفدار تھے۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سے مراد خاندان ہی نہیں ؛ بلکہ متبعین بھی ہیں ۔ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر آل فرعون کالفظ آیا ہے، ان میں کسی جگہ بھی آل سے مراد محض فرعون کے خاندان والے نہیں
*اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی مثال دی کہ وہ آپ کی آل میں سے نہیں ہے* وہ ابن رسول تو تھا لیکن آل رسول نہ تھا کیونکہ اس نے حضرت نوح علیہ السلام کی پیروی نہ کی۔ ان کے عقیدہ کو چھوڑ دیا۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ
(هُوْد ، 11 : 46)
ارشاد ہوا اے نوح علیہ السلام بے شک تیرا گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے۔
“لیس من اھلك”
یہاں ‘لیس” فرما کے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی اللہ نے کہ جو تمہاری بات نہ مانے وہ کسی صورت تمہارا ہو ہی نہیں سکتا ،
درود ابراہیمی میں آل محمد سے اگر صرف بنو ہاشم وبنو طلب مراد لیے جائیں ، جو نسبا آل محمد ہیں ، *تو اس میں نیک وبد اورمومن وکافر سب شامل ہوجائیں گے۔*
*دوسری طرف آل ابراہیم میں مغضوب وضالین بھی شریک ہوجائیں گے جو نسبا آل ابراہیم ہیں* ؛
حالاں کہ قرآن میں فرمایا گیا: إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاہِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوہُ وَہَـذَا النَّبِیُّ وَالَّذِینَ آمَنُواْ وَاللّہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِینَ (آل عمران:۶۸) (ابراہیم سے قرب رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر آخرالزماں اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے)۔
*اگر کوئی اہل بیت میں ہے تو اہل بیت سے ہونا پہلا امتیاز نہیں ہے ، پہلا امتیاز پھر بھی صحابیت ہی ہے* اب وہ صحابی ہونے کے ساتھ نبی کے گھر والوں میں شمار ہیں اس بات نے انہیں ممتاز کردیا ۔
حاصل تحریر یہی ہے کہ صحابیت پہلا امتیاز ہے لہذا آل میں وہ سب شمار ہیں جو متبع ہیں جو علم کے وارث ہیں جو نہج کے وارث ہیں
لہذا آل رسول وہی ہو گا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا۔ جس کا عقیدہ درست ہو گا۔ جس نے عقیدہ صحیحہ چھوڑ دیا اتباع رسول چھوڑ دی وہ آل رسول میں سے نہیں ہو گا۔
*واضح رہے کہ لفظ آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اولاد ، اہلِ خانہ (ازواجِ مطہرات ) بھی شامل ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام امت اجابت یعنی تمام متقین و متبعین بھی شامل ہیں۔*
السنن الكبرى - البيهقي میں ہے:
آل سے متبعین بھی مراد ہوتے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔
“اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ” [سورة غافر : 46]
“آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو”
اس آیت سے فرعون اور اس کے تمام متبعین مراد ہیں۔
لیکن دوسری طرف نبی کا وارث وہی ہوگا ہو متبع ہوگا اب وہ اولاد سے ہو یا غیر اولاد سے ہو ، نبی کا خون ہے اسکا حقیقی بیٹا ہے تو لہذا اب وہ جیسا بھی ہے وہی وارث ہوگا ایسا نہیں ہے ۔
Comments
Post a Comment