Posts

چلتے پھرتے/ بے وضو درود پڑھ سکتے ہیں درودشریف چلتے پھرتے اور بے وضو پڑھے جاسکتے ہی

 سوال:  کیا چلتے پھرتے/ بے وضو درود پڑھ سکتے ہیں درود شریف اور تمام اذکار و اوراد چلتے پھرتے اور بے وضو پڑھے جاسکتے ہیں، اس کے لیےوضوکرنا لازم نہیں ہے۔ لیکن 7 جگہوں پر درود نہی پڑہ سکتے. فتوی نمبر : 144504102195 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن (۱) اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرتے وقت۔  (۲) پیشاب وپاخانہ کرتے وقت۔ (۳) کسی چیز کے بیچنے کے ارادے سے کسی کو دکھانے کے وقت (تاکہ اس سے سامنے والے کو چیز کی عمدگی معلوم ہو)(۴)  ٹھوکر لگتے وقت۔  (۵)  تعجب کے وقت۔ (۶)  ذبح کرتے وقت۔  (۷)  چھینک آنے پر ۔فتوی نمبر : 144012201177 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن https://www.banuri.edu.pk/readquestion/chalty-phirty-by-wazo-durood-parhna-afzal-ur-asan-darood-shareef-ki-tayeen-144504102195/07-11-2023 ✿.。.:* ☆:**:.  .:**:.☆*.:。.✿ وَﻣَﺎ ﺗَﻮْﻓِﻴﻘِﻲ ﺇِﻻَّ ﺑِﺎﻟﻠّﻪ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا باللَّهِ

درود سے حاجتیں پوری ہوتی, بلا و مصیبت کا خاتمہ اور اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں

 _امام ابن حجر رحمه الله نقل کرتے ہیں :_   "نبی صلی الله علیه وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے !" - [ بذل الماعون : ٣٣٣ ]   حضرت حذیفہ  نے فرمایا کہ :نبی  کریمﷺ  پر درود پڑھنے کی برکت درود پڑھنے والے کی اولاد میں بھی باقی رہتی ہے۔ (الصلوٰۃ والبشر،ص:۴۵)  حضرت جابر  سے روایت ہے کہ حضور  اکرم ﷺ  نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر سوبار درود بھیجے اس کی سو حاجتیں پوری کی جائیں گی، ستراس کی آخرت کی اور تیس اس دنیا کی۔ (سعادۃ الدارین،ص:۱۰۰) ا

farishtei darood bhejnei walei per darood bhejtei hein

’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے خدوخال خوشی سے چمک رہے تھے میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آج کے دن سے بڑھ کر کبھی اتنا زیادہ خوش نہیں پایا (اس کی کیا وجہ ہے؟) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جبرئیل ابھی میرے پاس سے روانہ ہوا ہے اور مجھے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور دس گناہ معاف کر دیتا ہے اور دس درجات بلند کردیتا ہے اور فرشتے اس کے لئے ایسا ہی کہتے ہیں جیسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کہتا ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے کہا اے جبرئیل اس فرشتے کا کیا معاملہ ہے؟ تو اس نے کہا بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت...

درود کے گشت کرنے والے فرشتے

حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتوں کا ایک گروہ زمین میں گھومتا رہتا ہے اور وہ ذکر کے حلقوں کی تلاش میں رہتا ہے اور جب ان کو ایسا حلقہ ذکر ملتا ہے تو اس کو وہ اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں (اور اس میں شامل ہو جاتے ہیں) پھر ان کا گروہ آسمان کی طرف اللہ رب العزت کی بارگاہ میں آتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم تیرے ان بندوں کی مجلس سے اٹھ کر آرہے ہیں جو تیری نعمتوں کی تعظیم کررہے تھے اور تیری کتاب قرآن پاک کی تلاوت کررہے تھے اور تیرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج رہے تھے اور وہ تجھ سے اپنی آخرت اور دنیا دونوں کی بہتری کا سوال کررہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ان کو میری رحمت سے ڈھانپ دو۔‘‘ فرشتے کہتے ہیں اے رب ان میں فلاں شخص بڑا گناہگار تھا (اور وہ ان کے ساتھ ایسے ہی مل گیا تھا) اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے انہیں میری رحمت سے ڈھانپ دو پس وہ ایسے ہم نشیں ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدبخت نہیں ہو سکتا۔‘‘ هيثمي، مجمع الزوائد، 10 : 77 2. منذري، الترغيب والترهيب، 2 : 260،...

درود و سلام میں أل محمدﷺ سے مراد صرف اہل بعیت نہی ہیں.*

اہل بعیت و آل محمدﷺ: ایک تحقیقی مطالعہ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأَمِيِّ وَ عَلٰى أٰلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا ‘ *درود و سلام میں أل محمد سے مراد صرف اہل بعیت  نہی ہیں.* پروفیسر محمد سلیم قاسمی ڈین دینیات فیکلٹی وصدر شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے بارے میں حالات  کےمناسبت سے  مختلف اقوال ہیں۔ (1) آل محمد سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ (2) دوسرا قول یہ ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد آپ کی اولاد اور بیویاں ہیں۔ (3) تیسرا قول یہ ہے کہ محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد قیامت تک آنے والے آپ کے پیروکار ہیں۔ (4) چوتھا قول یہ ہے کہ آل سے مراد آپ کے امت کے متقی و پرہیزگار لوگ ہیں۔ _واضح رہے کہ *درود شریف* میں لفظ  آلِ  محمد  (صلی اللہ علیہ وسلم)  میں  آپ صلی اللہ  علیہ و سلم کی اولاد ، اہلِ  خانہ  (ازواجِ  مطہرات ) بھی شامل  ہیں، اور  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام  امت اجابت  یعنی  تمام  متقین و  متبعین بھ...

درود شریف میں نبی ﷺ کو اُمی کہنا بے ادبی نہی ہے!*

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأَمِيِّ وَ عَلٰى أٰلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا ‘ درود شریف میں نبی ﷺ کو اُمی کہنا بے ادبی نہی ہے! قرآن کریم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے "أمي" کا لقب استعمال کیا گیا ہے٬ جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مخلوق سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا٬ بلکہ اللہ رب العزت نے براہ راست وہ علوم عطا فرمائے کہ پوری انسانیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکمت سے بھرپور قیمتی ارشادات اور آپ کی حیات طیبہ سے رہنمائی کی محتاج ہے٬ اس لحاظ سے آپ ساری انسانیت کے معلم ہیں. "أمی" کا لفظ عام انسانوں کیلئے تو عیب کا باعث ہے٬ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے کمال کا باعث اور معجزہ ہے. لہذا درود شریف وغیرہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے "أمی" کا لقب استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے٬ بلکہ ایک روایت میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا درود شریف سکھایا ہے٬ چنانچہ حضرت عقبہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ درود پاک پڑھنے کا طریقہ خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: قُولُوا: اللّٰهُمَّ صَلِّ ...

حضرت سفیان ثوری ؒ کو طواف کرتے ہوے لڑکے نے عجیب واقعہ بتایا

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأَمِيِّ وَ عَلٰى أٰلِهٖ وَسَلِّمْ تَسْلِیْمًا ‘ ایک حکایت: جس سے درود  شریف کی فضیلت کا ہمیں  اندازہ ہوسکتا ہے حضرت سفیان ثوری ؒ  طواف کررہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کودیکھا جو ہر قدم پر درود شریف پڑھتا تھاسفیان ثوریؒ نے پوچھا: اے شخص! کیا بات ہے کہ طواف کے درمیان تسبیح وتہلیل کے بجائے توہر قدم پر درود شریف پڑھتاہے، اس سلسلہ میں کوئی علمی بات ہو تو بتائو، وہ کہنے لگا: تو کون ہے ؟ اللہ تجھے معاف فرمائے، انہوں نے کہا: میرا نام سفیان ثوری ہے ،وہ شخص کہنے لگا کہ اگرتو اپنے وقت کا نادرشخص نہ ہوتا تو میں یہ راز تجھے نہ بتاتا اور نہ ہی اپنے حال سے مطلع کرتا۔ واقعہ یہ ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حج بیت اللہ کے سفر پر نکلا، اثنائے سفر میرے والد بیمارہوگئے، میں ان کاعلاج کرتا رہا، ایک رات میں والد کے سرہانے بیٹھا تھا وہ فوت ہوگئے اورچہرہ سیاہ ہوگیا، میں نے ’’إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون‘‘پڑھی اور چادر سے اپنے والد کا منہ ڈھانپ دیا ،مجھے نیند کا غلبہ ہوا اور میں سوگیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک انتہائی حسین وجمیل شخص ہے کہ اس جیسا خو...